نئی دہلی، 31؍جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )بی جے پی کے ایم پی ادت راج کو مشورہ دیتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج کہا ہے کہ ان کے اوردیگردلت ممبران پارلیمنٹ کو دلت برادری پرملک بھر میں ہو رہے مظالم کی مخالفت میں پارٹی سے استعفیٰ دے دیناچاہیے۔دراصل ادت راج نے ہندو مذہب کے مبینہ ٹھیکیداروں کی تنقید کی تھی۔آپ لیڈر کیجریوال نے ٹوئٹ کیاکہ ملک بھر میں بی جے پی کے غنڈے دلتوں پر مظالم ڈھارہے ہیں جس کے خلاف ادت جی سمیت بی جے پی کے تمام دلت ممبران پارلیمنٹ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے ۔کل دلت لیڈر نے کہا تھا کہ ہندو مذہب خطرے میں ہے لیکن اس کی وجہ تبدیل مذہب نہیں بلکہ اس کے مبینہ ٹھیکیدار ہیں۔ادت راج نے کہا تھاکہ دنیا میں ایسا کوئی مذہب نہیں ہے جس میں لوگ اپنے ہی لوگوں پرمذہب کے نام پر حملہ کرتے ہیں۔انہوں نے پوچھاکہ جب دلتوں پر مظالم ہوتے ہیں تو ان کی مخالفت میں صرف دلت ہی آگے کیوں آتے ہیں؟۔ حال ہی میں کچھ ایسی خبریں آئی تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ تمل ماہ وغیرہ کے وقت ناگپٹنم کے قدیم بھدرکالیمن مندر میں اونچی ذات کے ہندوؤں نے دلتوں کو پوجا پاٹ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی جس کے بعد کچھ دلتوں نے اسلام مذہب قبول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔تاہم بعد میں ناگپٹنم ضلع انتظامیہ نے ایسی خبروں سے انکار کیا تھا۔